Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ حج یا عمرے کی نیت کس طرح کرے؟

Question

نا بالغ حج یا عمرے کی نیت کس طرح کرے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نا بالغ بچہ حج یا عمرہ کے احرام کی نیت کیسے کرے گا؟ جواب

Answer (beginning)

نا بالغ بچہ اگر نا سمجھ ہے تو اس کی طرف سے اس کا ولی یعنی سر پرست احرام کی نیت کرے اور حج و عمرہ کے افعال ادا کرے ، البتہ اس کی طرف سے طواف کے بعد کی دور کعتیں سر پرست ادا نہیں کر سکتا ۔ سر پرست کے احرام باندھنے اور افعال ادا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ نابالغ جب نا سمجھ ہو تو نہ اس کا احرام درست ہوسکتا ہے اور نہ وہ افعال کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ نا بالغ نا سمجھ بچے کی طرف سے نیت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سر پرست اس کی طرف سے یہ کہے : احرمت عن فلان یعنی میں نے فلاں کی طرف سے احرام باندھا پھر اس کے بعد کہے : لبیک عن فلان۔ دونوں جگہ لفظ فلاں کی جگہ اس بچے کا نام ذکر کرے جس کی طرف سے نیت کر رہا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.