Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیت سجدہ پڑھ کر نماز میں شامل ہوں تو سجدہ تلاوت کا حکم

Question

جو شخص نماز میں نہ ہو آیت سجدہ پڑھ کر نماز میں شامل ہوگیا تو سجدہ کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بہار شریعت میں یہ مسئلہ مذکور ہے : مسئلہ ۱۰ : جو شخص نماز میں نہ تھا آیت سجدہ پڑھ کر نماز میں شامل ہو گیا تو سجدہ ساقط ہو گیا ۔ (درمختار) ۔ “ (بہار شریعت، ج 01، ص 29 ، مکتبہ المدینہ کراچی) اس مسئلے کی حکمت سمجھ نہیں آرہی، برائے کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں ۔ جواب

Answer (beginning)

درست مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آیت سجدہ پڑھ کر نماز میں شامل ہو جائے ، تو فقط جماعت میں شمولیت کی وجہ سے سجدہ تلاوت ساقط نہیں ہو گا بلکہ اسے نماز سے فارغ ہو کر سجدہ تلاوت کرنا ہوگا، کیونکہ جب آیت سجدہ پڑھی تو سجدے کے وجوب کا سبب پایا گیا، اور اس کو ساقط کرنے والی کوئی چیز موجود نہیں ، لہذا سجدہ تلاوت لازم رہے گا ۔ در مختار میں ہے : ”(يجب) بسبب (تلاوة بشرط سماعها) والسماع شرط فی حق غیر التالی (او) بشرط (الائتمام بمن تلاها)“ آیت سجدہ کی تلاوت سے سجدہ تلاوت واجب ہو جاتا ہے ، بشر طیکہ سنے اور یہ سننا تلاوت کرنے والے کے علاوہ کے لئے شرط ہے ، یا پھر جس نے آیت سجدہ تلاوت کی اس کی اقتداء کی صورت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.