Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صلوۃ التسبیح کی منت کا حکم

Question

صلوۃ التسبیح کی منت کے متعلق چند احکام دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چار رکعت صلوۃ التسبیح کی منت مانی تو کیا منت لازم ہوئی ؟ اگر لازم ہے تو کیا چار نفل عام روٹین کے مطابق پڑھ لینا بھی کافی ہے یا تسبیحات کے ساتھ مکمل صلوۃ التسبیح کا طریقہ کار اپنانا ضروری ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

قوانین شریعت کے مطابق نماز وغیرہ عبادات میں وہ زائد اوصاف جو کہ فی نفسہ لازم نہ ہوں اور ان میں مشقت ہو ، منت کے الفاظ میں ان کا ذکر کرنے سے وہ بھی لازم ہو جاتے ہیں، البتہ وقت لازم ہونے کے متعلق تفصیل کچھ یوں ہے کہ جس منت میں شرط مذکور ہو، اس میں وقت کی تخصیص لازم ہو جاے گی مثلا کہا کہ اگر ہمارا اچھا ہوجائے تو دس روپے خیرات کروں گا ، تو اچھا ہونے سے پہلے ہی خیرات کر دینے سے منت پوری نہ ہوگی، اچھے ہونے کے بعد پھر کرنا پڑے گا، جبکہ جگہ ، روپے اور فقیروں کی تخصیص بہر صورت بیکار ہے چاہے منت میں شرط مذکور ہویا نہ ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.