Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اوپر چڑھتے اللہ اکبر اور نیچے اترتے سبحان اللہ پڑھنا سنت ہے؟

Question

اوپر نیچے جاتے ہوئے تکبیر و تسبیح سفر کے ساتھ خاص ہے ؟ نیز اس میں حکمت کیا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر اور پستی کی جانب اترتے ہوئے تسبیح پڑھی جاتی ہے۔ اس کے متعلق احادیث میں جو روایت ہے اس کا تعلق تو سفر کے ساتھ ہے ۔ کیا یہ سنت سفر سے ہی مخصوص ہے یا عام حالات میں بھی اسی طرح تکبیر و تسبیح پڑھنا سنت ہی ہے، نیز بلندی کے لیے تکبیر اور پستی کے لیے تسبیح کو بطور دعا مقر ر کرنے کے پیچھے کیا حکمت ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

بلندی کی طرف جاتے ہوئے "اللہ اکبر " اور پستی کی طرف اترتے ہوئے "سبحان اللہ کہنا مسنون ہے ۔ یہ سنت محض سفر سے مخصوص نہیں ، بلکہ عام حالات میں بھی بلندی پر چڑھتے یا پستی کی طرف آتے تکبیر و تسبیح مسنون ہی ہے ۔ محد ثمین کرام نے اس تکبیر و تسبیح کی مختلف حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ اولاً حدیث، پھر حکمتیں اور آخر پر اس دعا کے سفر سے مخصوص نہ ہونے پر عبارات نقل کی جائیں گی۔ بخاری شریف میں ہے : ” عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: كنا إذاصعدناكبرناوإذانزلناسبحنا“ ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.