Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پیر کے انتقال کے بعد بیعت کا حکم
Question
پیر کے انتقال کے بعد بیعت کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی جامع شرائط پیر صاحب کا مرید ہو اور اس کے پیر صاحب کا انتقال ہو جائے تو کیا اس انتقال کی وجہ سے پیر صاحب سے کی ہوئی بیعت ٹوٹ جاتی ہے ؟ کیا اس کو کسی دوسرے پیر صاحب سے مرید ہونا جائز ہے ؟ یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ اگر پیر صاحب نے کسی کو اپنا جانشین و خلیفہ مقرر کیا ہو اور یہ اس جانشین سے اس نیت سے بیعت کرے کہ یہ میں اپنے مرحوم پیر صاحب سے ہی بیعت کر رہا ہوں ، تو اب یہ اپنے پیر صاحب کا ہی مرید کہلائے گا ؟ اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
پیر کا انتقال ہو جانا بیعت ٹوٹ جانے کے اسباب میں سے نہیں، لہذا جو شخص کسی جامع شرائط پیر کا مرید ہو اور اس کے پیر صاحب کا انتقال ہو جائے تو وہ اب بھی انہیں کا مرید ہے ، اس کیلئے بلاوجہ شرعی کسی اور کا مرید ہونا جائز نہیں ، جیساکہ پیر صاحب کی زندگی میں بھی اس کیلئے یہی حکم تھا، البتہ تربیت اور حصول فیض کے لئے کسی دوسرے جامع شرائط پیر کا طالب ہونے میں حرج نہیں اور طالب ہونے کی صورت میں اس دوسرے پیر سے جو فیوض و برکات حاصل ہوں ، اسے اپنے پہلے پیر ہی کی عطا جانے ، یونہی اگر پیر صاحب نے کسی کو اپنا جانشین و خلیفہ بنایا تھا اور پیر صاحب کے انتقال کے بعد کسی مرید نے اپنے مرحوم پیر صاحب سے بیعت کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.