Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صاحب ترتیب کو قضا نماز بھول گئی اور وقتی پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟
Question
صاحب ترتیب کو قمنا نماز بھول گئی اور وقتی پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسا شخص کہ جو صاحب ترتیب تھا ، وہ کسی وجہ سے عشاء کی نماز پڑھنا بھول گیا ۔ جب فجر میں اٹھا تو نماز فجر باجماعت ادا کی ، لیکن نماز کے بعد یاد آیا کہ میں رات عشاء کی نماز نہیں ادا کر سکا تھا۔ کیا ایسی صورت میں اُس کی فجر کی نماز ادا ہو گئی ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر کسی صاحب ترتیب کی کوئی نماز رہ گئی اور وہ بھول کر جس فرض نماز کا وقت چل رہا ہو ، اُسے ادا کرنا شروع کر دے ، تو اُس کی یہ موجودہ نماز ادا ہوگی یا نہیں ، اس کی دو صورتیں ہیں ۔ (1) اگر صاحب ترتیب وقتیه نماز ادا کرنا شروع کر دے اور اُسے دوران نماز اپنی قضاء نماز یاد نہ آئے ، حتی کہ جس نماز کو پڑھ رہا ہو، اس کا سلام پھیر دے ، تو اُس کی یہ پڑھی جانے والی نماز شرعاً ادا ہو جائے گی ، لہذا پوچھی گئی صورت میں نماز فجر ادا ہو گئی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.