Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسبوق کی اقتدا کرنا جائز ہے ؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 0053-OKR
- Issued
- 21 صفر المظفر 1447 / 16 اگست 2025. دار الافتا اهلسنت
Question
مسبوق کی اقتدا کرنا جائز ہے ؟ دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسبوق جب اپنی بقیہ فوت شدہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو، تو کوئی شخص اس کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مسبوق وہ مقتدی ہے جو ایک یا ایک سے زیادہ رکعتیں نکل جانے کے بعد امام صاحب کے ساتھ شامل ہو۔ ایسا مقتدی امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد جب اپنی فوت شدہ رکعتیں ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو، تو ان رکعتوں کی ادائیگی میں اس کی اقتداء جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ مسبوق اگر چہ امام صاحب کے سلام پھیر نے کے بعد اپنی بقیہ رکعات کی ادائیگی میں منفر د ہو جاتا ہے ، مگر اس کا یہ منفرد ہونا بعض امور میں اسے مقتدی ہونے سے خارج نہیں کرتا ، بلکہ وہ ان امور میں امام کے تابع ہوتا ہے اور ان امور میں سے ایک یہی ہے کہ اس کی اقتداء نہیں کی جاسکتی ، لہذا اس معاملے میں مقتدی کی طرح ہونے کی وجہ سے اس کی اقتداء جائز نہیں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.