Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جو شخص حروف کے درمیان فرق نہ کر سکے ایسے کو امام بنانا کیسا ؟
Question
جو شخص حروف کے درمیان فرق نہ کر سکے ایسے کو امام بنانا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی قراءت درست نہ ہو، حروف کے درمیان فرق نہ کرتا ہو ، تو کیا اس کو امام بنا سکتے ہیں ؟ جواب سائل : بشر جاوید (فیصل آباد)
Answer (beginning)
قراءت کا معنی یہ ہے کہ ہر حرف کو اس کے مخرج (اس کی اپنی جگہ ) سے اس طرح ادا کیا جائے کہ وہ دوسرے حرف سے ممتاز وجدا ہو جائے ۔ جو اس طرح کی قراءت نہ کر سکتا ہو اسے امام بنا نا ہر گز جائز نہیں ۔ قراءت کی تعریف کے متعلق صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (سال وفات : 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں : " قراءت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے ادا کیے جائیں، کہ ہر حرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز ہو جائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.