Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
توبہ کے ارادے سے گناہ کرنے کا حکم
Question
تو بہ کے ارادے سے گناہ کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی بندہ کثیر گناہ کرے اور گناہ کرنے سے پہلے یہ ارادہ (PLAN) رکھے کہ گناہ کرنے کے بعد توبہ کر ہی لینی ہے تو اس کی توبہ کا کیا حکم ہوگا؟ جواب
Answer (beginning)
گناہ کرنے سے پہلے یہ ارادہ کر کے رکھنا کہ بعد میں تو بہ کرلوں گا اور تو بہ کے بھروسے پر گناہ کرنا، بہت بڑی جرات و بیباکی ہے بلکہ بعض اوقات ایسی صورت میں آدمی گناہ کو یوں ہلکا سمجھ کر کرتا ہے جیسے مباح وجائز کام کر لیتا ہے اور یہ صورت کفر تک پہنچانے والی ہے ۔ بہر حال یہ شیطان کا بہت بڑا دھوکہ ہے کہ انسان کو گناہ پر آمادہ کرنے کیلئے یہ خیال دل میں ڈال دیتا ہے کہ " بعد میں تو بہ کر لینا ، اللہ غفور و رحیم ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موت کا وقت معلوم نہیں، اور کوئی بھی لمحہ آخری لمحہ ہو سکتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.