Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآن پاک پڑھنے والے کے پاس اونچی جگہ پر بیٹھنا کیسا ؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 876-FAM
- Issued
- 15 ربیع الاول 1447ء 9 ستمبر 2025ء
Question
قرآن پاک پڑھنے والے کے پاس اونچی جگہ پر بیٹھنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بندہ مصلے پر بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہو اور اس کے قریب چار پائی کے اوپر کچھ مردیا عورتیں بیٹھی ہوں تو کیا حکم ہو گا ؟ جواب
Answer (beginning)
قرآن کریم کا ادب و احترام کرنا ہر مسلمان کا مذہبی و تیرہ اور ہر حال میں مطلوب و محبوب عمل ہے ، لہذا ہر وقت قرآن کریم کی تعظیم کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔ تعظیم و توہین کا دارومدار عرف و رواج پر ہوتا ہے یعنی اس جگہ جسے لوگ ادب میں شمار کریں وہ فعل ادب و تعظیم کا قرار پاتا ہے اور جسے لوگ بے ادبی جانیں وہ فعل بے ادبی و توہین قرار پاتا ہے ۔ پوچھی گئی صورت میں قرآن کریم سے دیکھ کر تلاوت کرنے والے شخص کے قریب چار پائی پر بیٹھنا بے ادبی و ممنوع ہے ، کیونکہ ہمارے ہاں قرآن کریم کی بنسبت اونچائی پر بیٹھنا بے ادبی ہی تصور کیا جاتا ہے ، لہذا اس سے احتراز کیا جائے ، البتہ اگر درمیان میں کوئی چیز مثلاً…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.