Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سجدہ تلاوت کی علامت والی آیت سے پہلے سجدہ کرنے کا حکم

Question

سجدہ تلاوت کی علامت والی آیت سے پہلے سجدہ کر لیا تو کیا حکم ہے ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک حافظ صاحب نے تراویح پڑھاتے ہوئے سورۃ النمل آیت نمبر ۲۵ یعنی " أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ (25) “ پر سجدہ تلاوت کر دیا اور پھر اس کے بعد آیت نمبر ۲۶ یعنی "اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (26)‘ سے تلاوت شروع کی اور اس پر سجدہ نہ کیا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ قرآن پاک میں سورہ نمل میں سجدہ تلاوت کی علامت تو دوسری آیت کے بعد لکھی ہوئی ہے ، تو کیا حافظ صاحب کا آیت نمبر ۲۵ پر سجدہ تلاوت کرنے سے سجدہ تلاوت ادا ہو جائے گا یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

سورہ نمل کی آیت نمبر 25 بھی اگر چہ آیت سجدہ ہی ہے لیکن اصح قول کے مطابق دونوں آیتوں (۲۵ اور ۲۶) کی تلاوت کے بعد سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے ، لہذا پہلی آیت کے بعد جو سجدہ تلاوت ادا کیا گیا ، تو وہ ادا نہ ہوا۔ پھر ظاہر ہے کہ حافظ صاحب نے اپنے گمان میں یہ سمجھا کہ سجدہ تلاوت ادا ہو گیا ، تو انہوں نے دوسری آیت پڑھنے کے بعد سجدہ تلاوت نہ کیا، جبکہ نماز میں سجدہ تلاوت کرنا نماز کے واجبات سے ہے ، لہذا یہ جان بوجھ کر سجدہ تلاوت نہ کرنا ہوا جس سے قصداً واجب ترک ہو کر نماز واجب الاعادہ ہوئی ، لہذا حافظ صاحب اور مقتدیوں سمیت سب پر اس نماز کا اعادہ واجب ہو گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.