Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بینک کی نوکری کرنے کا حکم ؟

Question

بینک کی نوکری کا حکم ؟ دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا بینک کی نوکری کرنا جائز ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

بینک کی ہر ایسی نوکری جس میں سو دلینا دینا، لکھنا پڑھنا، سودی ڈاکومینٹس تیار کرنا، سود کی ریکوری کرنا، کسٹمر ز کو سود پر لون فراہم کرنا، یا کسی بھی طرح کا سود کے متعلق کام ہو، تو بینک کی وہ نوکری کرنا، ہر گز جائز نہیں ، کیونکہ اس میں سود جیسے حرام و گناہ کے کام پر معاونت یعنی مدداور اجارہ کرنا ہے اور حرام کام کی معاونت اور اس پر اجارہ کرنا، ناجائز و حرام اور گناہ ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی، وہیں سود لکھنے والے اور اس کے گواہ بننے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.