Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی کا استعمال شدہ احرام پہن کر عمرہ کر سکتے ہیں؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
0425-HAB
Issued
19 صفر المظفر 1446 /24 ستمبر 2024. دار الافتاء اهلسنت

Question

کسی کا استعمال شدہ احرام پہن کر عمرہ کر سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی کا استعمال شدہ احرام پہن کر عمرہ کر سکتے ہیں ؟ یا احرام کا نیا ہونا ضروری ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

احرام کے لئے نئی چادریں ہونا شرط نہیں ، ہاں مستحب یہ ہے کہ چادریں نئی یا دھلی ہوئی ہوں اور نئی ہو نا زیادہ بہتر ہے ، بہر حال اپنا یا کسی اور کا استعمال شدہ احرام پہن کر بھی عمرہ کر سکتے ہیں، ہاں !اگر استعمال ہونے کی وجہ سے چادر میں میلی ہو چکی ہوں ، تو انہیں دھولینا بہتر ہے ۔ در مختار میں ہے : ” (يستحب) المريد الإحرام (لبس إزار ورداء جديدين أو غسيلين طاهرين) احرام باندھنے والے شخص کے لیے نئی یا پاک دھلی ہوئی تہبند اور چادر پہننا مستحب ہے ۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے ” (قوله جديدين) أشار بتقديمه إلى أفضليتہ نئی ہونے کا ذکر پہلے کر کے اس کے افضل ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.