Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تھیلیسمیا کے مریضوں کے لئے جمع کیا ہوا خون کسی اور مریض کو لگانا کیسا؟

Question

تھیلیسمیا کے مریضوں کے لئے جمع کیا ہوا خون کسی اور مریض کو لگا نا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کسی شخص نے تھیلیسمیا کے مریضوں کے لئے خون دیا ۔ خون لینے والے ادارے کو بعد میں کسی دوسرے مریض ، مثلا زخمی کو ایمر جنسی میں وہ خون دینے کی اجازت ہوگی یا نہیں ؟ ادارے کا پہلے سے ایسا کوئی ارادہ نہیں لیکن ایمر جنسی میں ایسا کرنا کیسا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں تھیلیسمیا کے مریضوں کے لئے خون اکٹھا کرنے والے ادارے کے لئے حکم یہی ہے کہ وہ یہ خون تھیلیسمیا کے مریضوں کو لگائے ، البتہ اگر کوئی ایمر جنسی کیس آجائے اور کوئی متبادل انتظام نہ ہو سکے ، تو بوقت ضرورت یہ خون کسی دوسرے مریض کو لگانے میں حرج نہیں ۔ اس مسئلہ کی مکمل تفصیل یہ ہے کہ جو ادارہ مخصوص مریضوں کے لئے خون اکٹھا کرتا ہے ، تو گویا اس کی جانب سے وعدہ کہ لئے اکٹھا ، توگویا کی ہوتا ہے کہ یہ خون ان مریضوں ہی کو لگایا جائے گا ، ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں ، لہذا اس ادارے کو اپنے وعدے کی پاسداری کرنی ہوگی کہ قرآن و حدیث میں وعدہ پورا کرنے کی بہت تاکید بیان ہوئی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.