Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا علاج کروانا توکل کے خلاف ہے؟
Question
کیا علاج کروانا تو کل کے خلاف ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا علاج کروانا تو گل کے خلاف ہے ؟ جواب سائل : محمد ابو بحر (فیصل آباد)
Answer (beginning)
توکل ، اسباب ترک کر دینے کا نام نہیں بلکہ اسباب اختیار کرتے ہوئے مستقبب الاسباب پر اعتماد کرنے کا نام ہے ، تو جب انسان کا اعتقاد یہ ہو کہ شفا دینے والی ذات اللہ تعالی کی ہے اور اسی ذات نے علاج و معالجہ (Treatment) کو حصول شفا کا ایک ذریعہ بنایا ہے ، تو پھر علاج کروانے میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی یہ توکل کے خلاف ہے ، بلکہ علاج کروانا مسنون عمل بھی ہے کہ خود سید التونکین یعنی تو گل کرنے والوں کے سردار، نبی مکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے بھی علاج کروایا اور اس کی اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالی نے بیماری اور دوا ( دونوں ) اتارے ہیں اور ہر بیماری کے لیے دوا بنائی ہے ، تو تم…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.