Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صاحب ترتیب قضا نماز پڑھے بغیر بھولے سے وقتی نماز پڑھ لے تو کیا حکم ہے؟

Question

صاحب ترتیب قضا نماز پڑھے بغیر بھولے سے وقتی نماز پڑھ لے تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک صاحب ترتیب امام صاحب کی نماز فجر قھنا ہوگئی اور انہوں نے بھول کر فجر کی قضاء کیے بغیر ظہر پڑھادی، نماز پڑھانے کے بعد یاد آیا کہ میری تو نماز فجر کی قضا باقی رہتی ہے ، اب آیا ان کی نماز ظہر ادا ہوئی یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کی نماز ظہر درست ادا ہوئی، کیونکہ فقہائے کرام رحمھم اللہ تعالی کے ارشادات کے مطابق اگر صاحب ترتیب ( یعنی وہ شخص جس کی کوئی نماز قضا نہ ہو یا چھ سے کم نمازیں قضنا ہوں) کو قتنا نماز یاد نہ رہے اور وہ بھولے سے وقتی نماز پڑھ لے ، تو اس صورت میں وقتی نماز ہو جاتی ہے ، کہ بھول جانا شرعاً ایسا عذر ہے جس کے سبب نمازوں کی ترتیب ساقط ہو جاتی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.