Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرائے پر لیا ہوا گھر آگے کسی اور کو کرائے پر دینا کیسا ؟

Question

کرائے پر لیا ہوا گھر آگے کسی اور کو کرائے پر دینا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) پر لیا ہے ، اب وہ گھر کسی اور کو کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک گھر کرائے پر لیا ہے ، اس کرائے پر دینا چاہتا ہوں تو کیا اس طرح گھر کرائے پر لے کر کسی اور کو کرائے پر دینا اور اس طرح کرایہ حاصل کرنا جائز ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

آپ نے اس گھر کو جتنے کرائے میں لیا ہے اتنے یا اس سے کم کرائے میں کسی اور کو دینا اور اس سے مال حاصل کرنا جائز ہے ، البتہ اگر زیادہ کرایہ کے بدلے دینا ہو تو صرف تین صورتوں میں اس کی اجازت ہے ۔ (۱) : آپ اس مکان میں کوئی ایسی زیادتی کر دیں جس سے اس کی حیثیت بڑھ جائے مثلاً پینٹ کروادیں، یا ٹا ئلز لگوا دیں وغیرہ۔ (۲) : جس چیز کے عوض آپ نے اجارے پر لیا ہے اس کے خلاف جنس کے بدلے اجارہ پر دیں مثلا آپ نے پیسے سے لیا ہے تو کسی کو سونے یا چاندی وغیرہ کے عوض دیں ۔ (۳) : یا گھر کے ساتھ کوئی اور چیز بھی ملا کر دیں مثلاً کرسی، میز یا بیڈ وغیرہ اور سب کا کرایہ مجموعی طور پر ایک ہی بتا ئیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.