Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پرائز بانڈ بیچنے کے بعد انعام نکلا تو انعامی رقم کا مالک کون ہوگا؟

Question

پرائز بانڈ بیچنے کے بعد انعام نکلا تو انعامی رقم کا مالک کون ہوگا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص کا حکومتی قرعہ اندازی میں پرائز بانڈ پر انعام نکلا، مگر جس کے پاس پرائز بانڈ تھا، اسے معلوم نہ ہوا اور اس نے چند ماہ بعد پرائز بانڈ کسی کو فروخت کر دیا اور جس نے پرائز بانڈ خریدا، اسے بھی کچھ عرصے کے بعد پتہ چلا کہ اس پرائز بانڈ پر میرے خریدنے سے کچھ عرصہ پہلے انعام لگا تھا ، چنانچہ اس نے وہ انعام وصول کر لیا ۔ پہلے شخص (بائع) کو معلوم ہوا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ یہ انعامی رقم میری ہے اور میں ہی اس کا مالک ہوں، کیونکہ جب پرائز بانڈ پر انعام لگا تھا، تو وہ بانڈ میری ملکیت میں تھا۔ اور دوسری بات یہ کہ میں نے اسے بانڈ بیچا ہے ، اس کی انعامی رقم نہیں بیچی ، اگر انعامی رقم کے ساتھ بیچتا تو کافی زیادہ قیمت پر بیچتا۔ لہذا آپ سے سوال یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے اس انعام کا مستحق کون ہے ، دوسرا شخص کہ جس کے پاس فی الوقت یہ پرائز بانڈ ہے اور اس نے انعام وصول کیا ؟ یا وہ پہلا شخص کہ جب انعام لگا، تو وہ پرائز بانڈ کا مالک تھا ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں چونکہ دوسرے شخص یعنی خریدارنے پرائز بانڈ کی انعامی رقم وصول کرلی ہے ، تو وہی اس انعام کا مالک ہے ، اسے اپنے جس کام میں بھی خرچ کرنا چاہے ، کر سکتا ہے ۔ اس میں ی تفصیل یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی کے بعد متعلقہ پرائز بانڈ ہولڈر کو جو رقم دی جاتی ہے ، یہ رقم حکومت کی طرف سے انعام و عطیہ ہوتی ہے اور حکومت کی طرف سے یہ جس کے نام پر جاری ہوگی ، وہی اس کا مستحق ہوگا اور قانونا بھی انعام وصول کرتے وقت جس کی ملکیت میں بانڈ ہو، اسی کو حق دار مانا جاتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.