Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سجدے میں ناک زمین پر لگانا ضروری نہیں؟
Question
سجد سے میں ناک زمین پر لگانا ضروری نہیں ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے سجدے میں ناک کی بڑی لگانے کی شرعی حیثیت کیا ہے ، بعض افراد کا کہنا ہے کہ پیشانی لگا نا کافی ہے ، ناک لگا ناضروری نہیں ۔ جواب
Answer (beginning)
سجد سے میں پیشانی کا زمین پر جما نا فرض اور ناک کی ہڈی کا زمین پر یوں جھانا کہ ناک کا نرم حصہ دبنے کے بعد ناک کی بڑی زمین پر جم جائے واجب ہے، صرف پیشانی جمانے پر اکتفاء کرنا، بلاعذر ناک کی ہڈی نہ لگانا مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ ہے اور ایسی نماز کا اعادہ کرنا بھی واجب ہے ، ہاں اگر کوئی عذر ہو جیسے ناک پر زخم یا پھوڑا ہو جائے کہ جس سے ناک زمین پر نہ لگ سکتا ہو، تو فقط پیشانی سے سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.