Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وتر کے بعد والے نفل کی جگہ صلوٰۃ التوبہ پڑھ سکتے ہیں؟
Question
وتر کے بعد والے نفل کی جگہ صلوۃ التوبہ پڑھ سکتے ہیں؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عشاء کی نماز میں وتر کے بعد کے نوافل کی جگہ صلاۃ التوبہ ادا کر سکتے ہیں ؟ جواب سائل : محمد ضمیر (فیصل آباد)
Answer (beginning)
اگر کسی شخص نے عشا کے آخری نوافل پڑھنے کی بجائے ان کی جگہ فقط "صلاة التوبہ کی نیت کی، تو صرف صلاۃ التوبہ ادا ہوگی ، عشا کے آخری دو نفل ادا نہیں ہوں گے ، لیکن اگر دو رکعت نفل میں عشاء کے نفل میں ”نماز تو بہ کی اکٹھی نیت کرلی، تو ضابطہ شرعیہ کی روشنی میں عشا کے نوافل کے ضمن میں صلاۃ التوبہ بھی ادا ہو جائے گی اور دونوں کا ثواب حاصل ہوگا نیز کسی بھی فرض یا واجب یا سنت یا نفل نماز کے ساتھ نماز تو بہ کی نیت کرلی تو نماز تو بہ بھی ادا ہو جائے گی اور جدا گانہ صلاۃ التوبہ پڑھنے میں بھی یہ یادر ہے کہ یہ عشا کے وقت کے ساتھ خاص نہیں ، بلکہ اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھا جاسکتا ہے ، بلکہ اگر خدا نخواستہ کوئی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.