Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مٹی ہے یا سونا ہے، اچھی طرح تسلی کر لیں، اس طرح چیز بیچنا کیسا ؟

Question

مٹی ہے یا سونا ہے ، اچھی طرح تسلی کر لیں ، اس طرح چیز بیچنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس ایک گاڑی ہے ، جس کو میں سیل کرنا چاہ رہا ہوں، تو کیا میرے لیے ضروری ہے کہ میں خریدار کو اس کے عیوب سے آگاہ کر دوں یا پھر محض اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہے آپ کے سامنے ہے، مٹی ہے یا سونا، آپ ہی کا ہے ۔ دیکھ کر خرید لیں ؟ جواب

Answer (beginning)

ایک مسلمان کی خیر خواہی کی نیت سے اگر آپ خریدار کو اس کے عیوب ظاہر کر کے بیچیں، تو اس میں اگر چہ ظاہری منافع کچھ کم ہوں ، مگر اللہ پاک کی رضا ور حمت کی صورت میں بہت بڑی دولت ہاتھ آ سکتی ہے ، البتہ اگر اس کے عیب ظاہر کرنے کی بجائے خریدار کو محض یوں بول دیا کہ یہ مٹی ہے یا سونا آپ ہی کا ہے ، اچھی طرح تسلی کر کے خرید لیں ، تو اس سے خریدار کا خیار عیب ساقط ہو جائے گا اور اس کو واپسی کا اختیار نہیں رہے گا ۔ مسلمان کی خیر خواہی کے متعلق حدیث پاک میں ہے : " أن النبي صلي الله تعالي عليه وسلم قال: الدين النصيحة، قلنا: لمن؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.