Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقروض نے قرض ادا نہ کیا تو قیامت کے دن نمازیں دینی پڑیں گی؟
Question
مقروض نے قرض ادا نہ کیا تو قیامت کے دن نمازیں دینی پڑیں گی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر مقروض نے قرض ادا نہ کیا تو کیا اسے قرض کے بدلے قیامت کے دن اپنی باجماعت نمازیں دینی پڑیں گی ؟ کیا حدیث پاک میں اس کا ذکر آیا ہے ؟ رہنمائی فرما دیئے۔ جواب
Answer (beginning)
اگر کوئی شخص قرض لیتا ہے تو اسے چاہیے کہ جلد از جلد اسے لوٹانے کی کوشش کرے ، مقررہ میعاد پوری ہو جانے کے با وجود بلا وجہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا یا جان بوجھ کر قرض کے پیسے دبالینا ناجائز وگناہ اور ظلم ہے ، اور حدیث پاک سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن ظالم کی نیکیاں مظلوم کو اور نیکیاں نہ ہونے کی صورت میں مظلوم کے گناہ ظالم کو دلوائے جائیں گے ۔ نیز کئی معتد و مستند علمائے دین نے اپنی کتب میں مذکورہ بات بھی ذکر کی ہے کہ جو دنیا میں کسی کا مال ناحق دبائے گا، اسے قیامت کے دن اس کے بدلے اپنی باجماعت نمازیں دینی پڑ جائیں گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.