Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں آیت سجدہ کے فوراً بعد سجدہ نہیں کیا تو کیا حکم ہے؟
Question
نماز میں آیت سجدہ کے فوراً بعد سجدہ نہیں کیا تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور پھر اس کے بعد تقریباً دس آیتوں تک جان بوجھ کر سجدہ تلاوت نہیں کیا ، آیت سجدہ کے بعد مسلسل دس آیتیں پڑھتا رہتا، دس آیتوں کے بعد سجدہ تلاوت کیا اور پھر باقی نما ز عام نارمل روٹین کے مطابق پڑھی، شرعی رہنمائی فرما دیں کہ اس شخص کی نماز کا کیا حکم ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس شخص کی نماز مکروہ تحریمی ہو گئی ہے ، جس کا اعادہ اس پر لازم ہے ، نیز نماز میں آیت سجدہ پڑھنے کے بعد تین آیات سے زیادہ تاخیر کرنا ناجائز وگناہ ہے ، لہذا اس کی توبہ بھی اس پر لازم ہے ۔ مسئلے کی تفصیل جاننے کے لیے یہ تمہید ذہن نشین رکھیں کہ سجدہ تلاوت فی نفسہ واجب ہے ، کہ بیرون نماز آیت سجدہ پڑھی جائے ، تو سجدہ تلاوت واجب تو ہو جاتا ہے ، لیکن فورا کرنا واجب نہیں ہوتا اور اگر نماز میں آیت سجدہ پڑھی جائے تو یہ نماز کا جزو بن جاتا ہے اور واجبات نماز میں شمار ہوتا ہے ، یعنی نماز میں آیت سجدہ پڑھنے پر سجدہ تلاوت کے لیے دیگر واجبات نماز کی طرح ایک مقام و محل خاص ہو جاتا ہے اور وہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.