Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فنائے مسجد میں مسجد کا اسٹور روم بنا سکتے ہیں ؟
- Fatwa no.
- 0025-GUJ
Question
فنائے مسجد میں مسجد کا اسٹور روم بنا سکتے ہیں ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری جامع مسجد اندرونی ہال، صحن اور برآمدے پر مشتمل ہے ، ان تینوں جگہوں سے ہٹ کر مسجد کی چار دیواری کے اندر ہی کچھ جگہ خالی ہے ، وہاں نماز نہیں ہوتی ، وہ فنائے مسجد ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ ہم اس خالی جگہ پر مسجد کا سامان اور ضروری اشیاء رکھنے کے لئے اسٹور بنا سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس خالی جگہ پر مسجد کا ضروری سامان رکھنے کے لئے اسٹور بنانا، جائز ہے، کیونکہ فنائے مسجد ضروریات مسجد کے لئے ہی ہوتی ہے ، لہذا وہاں اسٹور بنا سکتے ہیں ۔ فتح القدیر اور خزانۃ المفتین میں ہے ، واللفظ للآخر: " ولا بأس بأن يتخذ في المسجد بيتا يوضع فيه الحصير ومتاع المسجد، به جرت العادة من غير نکیر ترجمہ : بلا انکار لوگوں کی عادت ہونے کی وجہ سے مسجد میں مسجد کی چٹائیاں اور سامان رکھنے کے لیے کمرہ بنانے میں حرج نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.