Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نسب بدلنے والے پر جنت حرام ہے، اس میں حرام سے کیا مراد ہے ؟

Question

نسب بدلنے والے پر جنت حرام ہے ، اس میں حرام سے کیا مراد ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے : "جو اپنے نسب کا علم ہونے کے باوجود کسی دوسرے کی طرف خود کو منسوب کرے اس پر جنت حرام ہے اس کا مطلب کیا ہے ؟ حالانکہ جنت تو کفار پر حرام ہے ۔ سائل : محمد سالک عطاری (نارووال) جواب

Answer (beginning)

جان بوجھ کر اپنا نسب بدلنا ناجائز و حرام اور سخت گناہ ہے۔ جس کی احادیث مبارکہ میں شدید مذمت و وعیدات بیان فرمائی گئی ہیں ۔ اور سوال میں مذکور حدیث پاک بھی انہیں وعیدات میں سے ہے ۔ اور جہاں تک سوال میں مذکور حدیث پاک کا تعلق ہے ، تو علماء نے اس کے کئی محمل بیان فرمائے ہیں : (1) یہ وعید نسب بدلنے کو حلال سمجھنے والے کے لیے ہے، کیونکہ نسب بدلنا حرام ہے اور حرام کام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور کافر پر جنت حرام ہے ۔ (2) جو افراد ابتداء جنت میں داخل ہوں گے ان کے ساتھ اس کا داخلہ حرام ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.