Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیٹی کی ساس سے نکاح کرنا کیسا ؟

Fatwa no.
0008-GUJ
Issued
27 محرم الحرام 1447ء 23 جولائی 2024. DaruliftaAhlesunnat

Question

بیٹی کی ساس سے نکاح کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا مرد کا اپنی بیٹی کی ساس سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے ، جبکہ بیٹی کی ساس کا شوہر فوت ہوچکا ہو اور عدت بھی ختم ہو چکی ہو ؟ جواب

Answer (beginning)

مرد کا اپنی بیٹی کی ساس سے نکاح کرنا شرعا جائز ہے جبکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ نہ ہو، کیونکہ بیٹی کی ساس محرمات (حرام کی گئی عورتوں) میں شامل نہیں ۔ جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : " وَ أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ " ترجمہ : اور ان عورتوں کے علاوہ (جو حرام ہیں) سب تمہیں حلال ہیں ۔ (پارہ 5 ، سورۃ النساء ،آیت 24) موسوعۃ الفقہ الاسلامی میں ہے : " ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا بنت زوج البنت ولا أمه " ترجمہ : ماں کے شوہر کی بیٹی اور ماں کے شوہر کی ماں اور بیٹی کے شوہر کی بیٹی اور بیٹی کے شوہر کی ماں حرام نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.