Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والدہ کے ماموں کی بیٹی یعنی والدہ کی کزن سے نکاح کرنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 9458-FSD
- Issued
- 20 صفر المظفر 1446 / 15 اگست 2025.
Question
والدہ کے ماموں کی بیٹی یعنی والدہ کی کرین سے نکاح کرنا کیسا ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکے کا اپنی والدہ کے سگے ماموں کی بیٹی سے نکاح کرنا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
والدہ کے سگے ماموں کی بیٹی سے نکاح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بشر طیکہ کوئی اور سبب حرمت مثلاً مصاہرت یا رضاعت موجود نہ ہو، کیونکہ شریعت مطہرہ میں جن عورتوں سے نکاح حرام قرار دیا گیا ہے ، اُن میں والدہ کے ماموں کی بیٹی شامل نہیں، نیز والدہ کے سگے ماموں کی بیٹی دراصل لڑکے کے پر نانا کی پوتی بنتی ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ اپنی اصل بعید (جیسے دادا، نانا، پر دادا، پر نانا) کی فرع بعید ( یعنی ان کی پوتیوں ، نواسیوں) سے نکاح کرنا ، جائز ہے ۔ لہذا والدہ کے سگے ماموں کی بیٹی سے نکاح کرنا بلاشبہ جائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.