Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیت سجدہ کا ترجمہ سننے سے سجدہ تلاوت کب لازم ہوتا ہے؟

Question

آیت سجدہ کا ترجمہ سننے سے سجدہ تلاوت کب لازم ہوتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آیت سجدہ کا ترجمہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہونے کے لئے سامع (سننے والے) کے لئے ترجمہ کا مفہوم سمجھنا شرط ہے یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

آیت سجدہ کا ترجمہ سننے سے سجدہ تلاوت تب واجب ہو گا جب سننے والے کو معلوم ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے اور وہ اس ترجمہ کا مفہوم بھی سمجھتا ہو، کیونکہ اگر سننے والے کو یہ علم ہی نہ ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے ، تو وہ معذور ہوگا، لہذا سجدہ تلاوت بھی واجب نہیں ہوگا، ورنہ اسے اس بات کا مکلف بنا نا لازم آئے گا ، جس کا اس کو علم ہی نہیں ہے اور اگر سامع نے ترجمہ کا مفہوم نہ سمجھا، تو اس صورت میں وہ قرآن پاک کو سننے والا شمار نہیں ہوگا، لہذا سجدہ تلاوت بھی واجب نہیں ہو گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.