Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صاحب ترتیب نے فجر نہیں پڑھی اور عید کی نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
0016-OKR
Issued
27 ذوالحجۃ الحرام 1446 ھ /24 جون 2025ء

Question

صاحب ترتیب نے فجر نہیں پڑھی اور عید کی نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحب ترتیب شخص کی عید کے دن کسی عذر کے سب نماز فجر قضا ہوئی، تو اس نے نماز فجر کی قضا پڑھے بغیر نماز عید ادا کرلی، توکیا اس کی نماز عید ادا ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

صاحب ترتیب شخص نے عید کے دن نماز فجر کی قضا پڑھے بغیر نماز عید ادا کر لی ، تو اس کی نماز عید ادا ہو جائے گی۔ صاحب ترتیب شخص نے عید کے دن نماز فجر کی قضا پڑھے بغیر نماز عید ادا کرلی، تو نماز عید کے ادا ہونے کے متعلق فتاوی ہندیہ اور فتاوی تاتارخانیہ میں ہے، واللفظ للاول : اذا قضى صلاة الفجر قبل صلاة العيد لا بأس به ولولم يصل صلاة الفجر لا يمنع جواز صلاة العيد ترجمہ : جب کسی شخص نے نماز عید سے پہلے نماز فجر کی قضا پڑھی ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر نماز فجر نہ پڑھی ، تو یہ نماز عید کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.