Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر رفع یدین منسوخ ہے، تو تکبیراتِ عیدین میں کیوں کیا جاتا ہے؟

Question

اگر رفع یدین منسوخ ہے ، تو تکبیرات عیدین میں کیوں کیا جاتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ، ہر دوسرا بندا سوشل میڈیا پر آکر اپنی من مانی کے مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ بات بیان کر کے احناف پر کافی اعتراضات کیے جا رہے ہیں کہ حنفی لوگ کہتے ہیں کہ رفع یدین منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل نہیں کر سکتے ، حالانکہ یہ لوگ عیدین میں تکبیرات کے ساتھ رفع یدین کرتے ہیں، اگر رفع یدین منسوخ ہو چکا ہے ، تو پھر سب نمازوں میں اس کو ترک کر دیں، ورنہ دیگر نمازوں میں بھی رفع یدین کریں ۔ کیا عیدین میں رفع یدین کرنے کا الگ سے حکم دیا دیا گیا ہے ؟ اس حوالے سے تسلی بخش رہنمائی کر دیں؟ سائل : عبد الغنی (فیصل آباد) جواب

Answer (beginning)

احناف کے نزدیک و تر وعیدین کے علاوہ دیگر نمازوں میں صرف تکبیر تحریمہ کے لیے رفع یدین (ہاتھوں کو اٹھانا) سنت ہے ، رکوع سے پہلے یا بعد سنت نہیں، کیونکہ نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے ابتداء پنج وقتہ نمازوں کے درمیان رفع یدین فرمایا ، پھر ترک فرما دیا اور اس سے منع بھی فرما دیا ، یہی خلفائے راشدین ، دیگر عشرہ مبشرہ اور کثیر فقہا صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین عليهم الرضوان کا عمل تھا، اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نماز پنج وقتہ کے درمیان (مثلاً رکوع سے پہلے اور بعد اور دیگر تکبیرات انتقالات کے وقت) رفع یدین منسوخ ہو چکا اور اب اس پر عمل کرنا خلاف سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.