Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حالت احرام میں زخم پر پٹی باندھنا کیسا؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
0610-HAB
Issued
19 محرم الحرام 1447 / 15 جولائی 2025 ء

Question

حالت احرام میں زخم پر پٹی باندھنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کچھ دنوں پہلے میں وضو خانہ پر پھسل گیا تھا جس کی وجہ سے میرے سیدھے ہاتھ کی کہنی ٹوٹ گئی ، علاج کے بعد بھی اس میں کافی شدید درد رہتا ہے ، اس لئے میں اس پر پٹی باندھ کر رکھتا ہوں ، اب مجھے کچھ دنوں میں عمرے کیلئے جانا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ میں حالت احرام میں کہنی پر پٹی باندھ سکتا ہوں یا نہیں ؟ اس کی وجہ سے دم تولازم نہیں ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ حالت احرام میں درد کی وجہ سے کہنی پر پٹی باندھ سکتے ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ، اس کی وجہ سے دم بھی لازم نہیں ، کیونکہ کہنی ، کلائی یا بازو وغیرہ ایسے اعضاء جن کو ڈھانپنا حالت احرام میں ممنوع نہیں ہے ، ان پر اگر کسی بیماری یا در دو غیرہ عذر کی وجہ سے پٹی باندھی جائے تو فقہاء کرام علیہم الرحمۃ کی تصریح کے مطابق یہ بلا کراہت جائز ہے۔ محر رمذہب حنفی سید نا امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمۃ مبسوط میں فرماتے ہیں : ” و إن عصب شيئا من جسده لعلة أو غير علة لم يكن عليه شيء وأكرهه لغير علة ترجمہ : اور اگر محرم نے اپنے بدن کے کسی حصے پر عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کے پٹی باندھی تو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.