Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عدت میں بدبو ختم کرنے کے لیے خوشبودار صابن استعمال کرنا کیسا؟

Question

عدت میں بدبو ختم کرنے کے لیے خوشبو دار صابن استعمال کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عورت عدت کے دوران خوشبو استعمال نہیں کر سکتی، تو کیا قضائے حاجت کے بعد ہاتھوں سے ناپسندیدہ بو کو ختم کرنے کے لئے خوشبو والا صابن استعمال کر سکتی ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

عام حالات میں معدہ (عدت گزارنے والی عورت) خوشبودار صابن استعمال نہ کرے، یونہی جسم سے نا پسندیدہ بو کے ازالے کے لئے قضائے حاجت کے بعد یا اس کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی بغیر خوشبو والاصا بن (جوجلد کی رنگت نہ نکھارتا ہو) استعمال کرے ، مارکیٹ میں ایسے بہت سے صابن موجود ہیں جو خوشبودار نہیں ہوتے ، لیکن جسم سے نا پسندیدہ بوکو زائل کر دیتے ہیں، لہذا ان کے ہوتے ہوئے خوشبودار صابن کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی ، ہاں اگر بغیر خوشبو والے صابن سے بوکو زائل کرنا ممکن نہ ہو یا انتہائی مشکل ہو ی فی الوقت بغیر خوشبو والاصا بن موجود نہ ہو اور ہاتھوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہو، تو اب جسم سے ناپسندیدہ بو کے ازالے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.