Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ بھیجنے کے چارجز زکوٰۃ کی رقم سے کاٹے جا سکتے ہیں یا الگ سے دینے ہوں گے ؟
- Fatwa no.
- 9405-FSD
- Issued
- 18 محرم الحرام 1447ء 14 جولائی 2025. DaruliftaAhlesunnat
Question
زکوۃ بھیجنے کے چارجز ز کوۃ کی رقم سے کاٹے جاسکتے ہیں یا الگ سے دینے ہوں گے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم لوگ یو کے سے پاکستان کشمیر میں اپنی ممانی کو زکوۃ بھیجنا چاہتے ہیں ۔ ہم جس منی ٹرانسفر کمپنی (MoneyTransferCompany) کے ذریعے رقم بھیجیں گے ، وہ اُس بھیجی جانے والی رقم پر چار جز یعنی فیس وصول کرتے ہیں۔ کیا ہم زکوۃ بھیجنے کے لیے جو چار جز ادا کریں گے ، اُسے زکوۃ کی رقم سے ہی ادا کر سکتے ہیں، یعنی فیس بھی زکوۃ سے ادا کر دیں اور بقیہ رقم بطور زکوۃ پاکستان ٹرانسفر کر دیں ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر زکوۃ کی رقم کسی دوسرے ملک یا شہر بھیجی جائے اور رقم بھیجنے پر اخراجات آئیں، تو وہ اخراجات زکوۃ کی رقم سے ادا کیے ادا گا۔ نہیں کیے جاسکتے، بلکہ اُن اخراجات کو الگ رقم سے ادا کیا جائے گا۔ جتنی زکوۃ بنتی ہے ، وہ مکمل رقم ہی مسحق تک پہنچنا ضروری ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں کشمیر زکوۃ بھیجتے ہوئے منی ٹرانسفر کمپنی (Money Transfer Company) کے چارجز کو الگ ادا کیا جائے اور جوز کوۃ کی رقم بنتی ہے ، وہ مکمل رقم ہی مستحق تک پہنچائی جائے ۔ فتاوی رضویہ میں سوال کیا گیا کہ میرے بچوں کا ماموں کسی دوسرے شہر میں مقیم اور فقیر شرعی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.