Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدی باقی رکعتوں میں قراءت کر لے تو کیا حکم؟
Question
مسافر امام کے پیچھے مقیم متندمی باقی رکعتوں میں قراءت کرلے تو کیا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ چار رکعت والی نماز میں امام مسافر اور مقتدی مقیم ہو، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد تیسری اور چوتھی رکعت میں مقتدی کتنی دیر خاموش کھڑا رہے گا ؟ اگر ان رکعتوں میں مقتدی نے قراءت کر لی ، تو کیا حکم ہوگا؟ جواب
Answer (beginning)
بیان کردہ صورت میں تیسری اور چوتھی رکعت میں مقتدی سورہ فاتحہ کی مقدار خاموش کھڑا رہے گا ۔ ان رکعتوں میں مقیم مقتدی کا قراءت نہ کرنا واجب اور کر لینا مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہوتا ہے ، لہذا اگر اس نے قراءت کرلی ، تو اگر بھولے سے کی ، تو نماز ہو جائے گی، سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا اور اگر جان بوجھ کر یا مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کی ، تو نماز واجب الاعادہ ہوگی یعنی اس نماز کو دوبارہ سے پڑھنا واجب ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.