Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماں نے کچھ سونا بیٹی کو گفٹ کر دیا تو زکوٰۃ کس پر ہوگی ؟
Question
ماں نے کچھ سونا بیٹی کو گفٹ کر دیا توڑ کو کس پر ہوگی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک خاتون کی شادی ہوئی، اس کے پاس 10 تولہ سونا تھا ، سال گزرنے پر اس نے زکوۃ ادا کر دی، پھر اس کے ہاں بچی کی ولادت ہوئی، تو اس نے چار تولہ سونا اپنی بیٹی کو دینے کا ارادہ کیا اور بیٹی کو مالک بنانے کے لئے اس کے والد ( یعنی اپنے شوہر) کے قبضے میں دیدیا، یوں اس کے پاس فقط چھ تولے سونا باقی رہ گیا ہے ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اب ماں اور نا بالغ بیٹی پر زکوۃ کے حوالہ سے کیا احکامات عائد ہوں گے ؟ جواب
Answer (beginning)
اول زکوۃ کے حوالہ سے بنیادی اصول سمجھ لیجئے : فرضیت زکوۃ کی شرائط میں سے ایک شرط بالغ ہونا بھی ہے، لہذا نا بالغ پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی، اگرچہ وہ صاحب نصاب ہو۔ کسی کے پاس فقط سونا ہو ، اس کے علاوہ سونے کی ہم جنس نصاب ( یعنی چاندی، روپیہ پیسہ ، پرائز بانڈ، مال تجارت وغیرہ) میں سے کوئی اور مالِ زکوۃ نہ ہو، تو جب تک سونا وزن کے اعتبار سے ساڑھے سات (7.5) تولہ مکمل نہ ہو، اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.