Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قضا نمازوں میں تاخیر کرنے سے گناہ ہوگا؟

Question

قضا نمازوں میں تاخیر کرنے سے گناہ ہو گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی قضا نمازیں ہوں اور ابھی ادانہ کی ہوں توکیا ان قسنا کا ہر وقت گناہ ہوتا رہتا ہے ؟ اگر وہ فارغ ٹائم میں قضا نمازیں نہ پڑھے ، بلکہ صرف فرض نماز کی سنت غیر مؤکدہ اور نوافل چھوڑ کر ہر نماز کے ساتھ فقط ایک قضا نماز پڑھے تو کیا گنہگار ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

آدمی کے ذمے قضا نمازوں کو جلد سے جلد پڑھنا واجب ہوتا ہے ، اور بغیر کسی شرعی عذر کے قضا نمازوں میں تاخیر کرنا ہر گز جائز نہیں ہو تا ۔ جس کے ذمے قضا نمازیں ہوں اس پر لازم ہے کہ جب کبھی فراغت کا وقت میسر ہو تو اسے غنیمت جانتے ہوئے نمازوں کی قضا کر تا رہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جائیں کہ زندگی کا بھروسہ نہیں ۔ لہذا اگر کوئی شخص بلاوجہ قضا نمازوں کی ادائیگی میں تاخیر کرے ، خاص طور پر فرصت کا وقت میسر ہونے کے باوجود سُستی کا مظاہر ہ کرے ، تو ظاہر ہے کہ یہ بلاعذر تاخیر کرنا ہو گا جو کہ جائز نہیں اور وہ گنہگار بھی ہوگا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.