Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نماز میں زیر زبر کی غلطی سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 827-FAM عالم الافيا اهلسنت
- Issued
- 26 محرم الحرام 1447ء / 22 جولائی 2025ء
Question
کیا نماز میں زیر زبر کی غلطی سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نماز میں غلطی سے قعدہ میں دعائے ماثورہ پڑھتے ہوئے مُقِيمَ الصَّلوة کی جگہ مُقِيمَ الصَّلوةَ ، یعنی تاء پر زیر کے بجائے زبر پڑھتی تھی ۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ میں یہ درست نہیں پڑھتی ۔ اب کیا اس سے معنی فاسد ہوں گے یا نہیں ؟ اور کیا نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
اصول یہ ہے کہ اعراب کی ایسی غلطیاں جس سے معنی نہ بگڑتے ہوں ، تو ان سے نماز فاسد نہیں ہوا کرتی ۔ چونکہ ”مقیم الصلوۃ میں کو زیر کے بجائے زبر کے ساتھ یعنی مُقِیمَ الصَّلوةَ پڑھنے میں کوئی معنی فاسد یعنی بگڑتے نہیں، لہذا اس سے نماز کے فاسد ہونے کا حکم نہیں ہے اور نمازیں درست رہیں۔ فتاوی قاضی خان میں ہے : "أما الخطأ في الإعراب إذالم يغير المعنى لا تفسد الصلاة عندالکل کمالو۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.