Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لکھ کر قسم کھانے کا حکم؟ نیز اللہ کا نام لیے بغیر قسم کھانے کا حکم؟

Question

لکھ کر قسم کھانے کا حکم ؟ نیز اللہ کا نام لیے بغیر قسم کھانے کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (۱) اگر کسی شخص نے رب تعالی کی قسم نہ دل سے کھائی، اور نہ زبان سے کہی ، بس صرف لکھ دیا ، توکیا قسم ہو جائے گی ؟ (۲) اگر کسی نے یوں کہا ہو کہ نہیں قسم اٹھا کر یہ بات کہہ رہی ہوں لیکن اللہ تعالی کی قسم کے الفاظ نہیں بولے ، تو کیا اس صورت میں بھی قسم ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

(۱) شرعی اعتبار سے قسم کے منعقد ہونے کیلئے دل میں نیست شرط نہیں ، دل میں ارادے و نیت کے بغیر بھی مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھانے سے شرعا قسم ہو جاتی ہے ۔ نیز جس طرح زبان سے تلفظ کرنے سے قسم ہو جاتی ہے ، اسی طرح زبان سے تلفظ کرے بغیر ، صرف لکھنے سے بھی قسم ہو جاتی ہے اور قسم کے ٹوٹنے پر کفارہ بھی لازم ہوگا ۔ (۲) الله عز وجل، یا خدا، یارب تعالی جیسے الفاظ کے بغیر فقط "قسم ہے یا قسم سے "یا قسم کھاتا ہوں "یا " قسم اٹھاتا ، ہوں “ کے الفاظ کو کہنے سے بھی قسم ہو جاتی ہے، اور مستقبل کے متعلق ایسی قسم کے الفاظ کہے ہوں تو اس قسم ٹوٹنے کی صورت میں قسم کا کفارہ لازم ہوتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.