Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کے کون سے واجب چھوڑنے سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے؟

Question

نماز کے کون سے واجب چھوڑنے سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز کے کچھ واجبات ایسے بھی ہیں جن کو بھولنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، تو وہ واجبات کون سے ہیں؟ جواب

Answer (beginning)

نماز کے متعلق دو طرح کے واجبات ہوتے ہیں : (۱) واجبات اصلیہ : جن کا وجوب تکبیر تحریمہ کے سبب ہو تا ہے اور یہ نماز کے اندر اس کی تکمیل کے لیے ضروری ہوتے ہیں کہ ان کے بغیر نماز کامل ہی نہیں ہوتی ۔ (۲) واجبات خارجیہ : جن کا وجوب امر خارج کے سبب ہوتا ہے خواہ یہ نماز کے اندر ہوں یا باہر ، در حقیقت یہ فی نفسہ مستقل واجب ہوتے ہیں، نہ کہ خاص نماز کے لیے ۔ پس سجدۂ سہو نماز کے واجبات اصلیہ کو بھول کر ترک کرنے سے واجب ہو تا ہے جیسا کہ نماز وتر میں دعائے قنوت کو بھولے سے چھوڑ دینا؛ کیونکہ وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کا پڑھنا نماز کے واجبات اصلیہ میں سے ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.