Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کا قراءت بھول کر آگے سے پڑھنا اور دوسری رکعت میں پیچھے سے پڑھنا
Question
امام کا قراءت بھول کر آگے سے شروع کرنا اور دوسری رکعت میں پھر پیچھے سے پڑھنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مسجد کے امام صاحب نماز پڑھاتے ہوئے آیات بھول جاتے ہیں، تو قرآن پاک میں کسی بھی دوسرے مقام بلکہ کئی پارے آگے سے قراءت شروع کر دیتے ہیں اور پھر انگلی رکعت میں دوبارہ پیچھے وہیں سے قراءت شروع کر دیتے ہیں ، جہاں سے بھولے تھے اور وہ نمازوں میں بار بار اس طرح کر رہے ہیں ۔ کئی بار ان کے بھولنے پر مقتدیوں کو بھی سمجھ آجاتی ہے کہ امام صاحب نے پہلے سے جاری آیات کو چھوڑ کر کہیں اور سے تلاوت شروع کر دی ہے ۔ اس بارے میں امام صاحب سے بات کی جائے ، تو وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بھی نماز ہو جاتی ہے ، اس میں مسئلہ نہیں ہے ۔ آپ اس بارے میں درست شرعی مسئلے کے متعلق ہماری رہنمائی فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کا آیات بھولنے پر آگے سے کوئی سورت یا آیت ملالینا درست ہے ، جبکہ ایسی آیت ملائیں کہ جس سے معنی بگڑ نہ جائیں، کیونکہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اگر امام صاحب واجب قراءت ( یعنی سورۂ فاتحہ کے بعد تین آیات کے برابر تلاوت) مکمل کر چکے ہوں، اس کے بعد بھولیں، تو آگے سے سورت وغیرہ ملانے کی بجائے رکوع کر لینا بہتر ہے ۔ نیز جب پہلی رکعت میں بھولنے کے بعد آگے کے کسی مقام سے سورت وغیرہ ملالی، تو دوسری رکعت میں اس کے بھی آگے سے قراءت کرنا واجب ، جبکہ پیچھے سے بھولی ہوئی آیات سے قراءت کرنا، ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ نماز میں اور نماز کے علاوہ بھی قرآن پاک خلاف ترتیب یعنی اللہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.