Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ہر عورت کو اس کے شوہر کی ٹیڑھی پسلی سے بنایا گیا ہے؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
0406-HAB
Issued
13 صفر المظفر 1446ء / 19 اگست 2024. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

کیا ہر عورت کو اس کے شوہر کی ٹیڑھی پسلی سے بنایا گیا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ہمارے معاشرے میں یہ مشہور ہے کہ عورت کو مرد کی ٹیڑھی پسلی سے بنایا گیا ہے ۔ کیا ہر عورت کو اس کے مرد یعنی اس کے شوہر کی ٹیڑھی پسلی سے بنایا گیا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

یہ بات صرف حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے متعلق ہے کہ انہیں آدم علیہ السلام کی ٹیڑھی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”استوصوا بالنساء خيرا فانهن خلقن من ضلع وان اعوج شيئ في الضلع اعلاه فان ذهبت تقيمه كسرته وان تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء “ ترجمہ : عورتوں سے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو، کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور یقیناً پسلی کا ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر کا ہے ، تو اگر اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے ، اور اگر چھوڑ دو تو ٹیڑھا رہے گا، لہذا عور توں کے متعلق وصیت قبول کرو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.