Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
موجودہ دور میں عیسائی یا یہودی عورت سے نکاح کرنے کا حکم؟
Question
موجودہ دور میں عیسائی یا یہودی عورت سے نکاح کرنے کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسلم یا غیر مسلم ممالک میں عیسائی عورتوں سے شادی کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
موجودہ دور میں کتابی یعنی عیسائی اور یہودی عورتیں تمام کی تمام حربیہ ہیں اور حربیہ کتابی عورت سے نکاح کرنا ناجائز و گناہ ہے اور یہ بھی اس صورت میں جبکہ وہ خدا اور مذہب کو ماننے والی ہوں ، ورنہ اگر خداہی کی منکر یعنی دہر یہ ہوں جیسا کہ موجودہ زمانے کی خصوصا عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد خدا اور مذہب کی منکر ہو چکی ہے اور خالص دہریہ ہے تو ایسی دہریہ عورت کے ساتھ نکاح بالکل ہی باطل و حرام ہے ۔ اس تفصیل کی روشنی میں موجودہ زمانے کی کتابی (یہودی، عیسائی) عورتوں کے ساتھ نکاح کی صورت یا تو باطل ہے یعنی نکاح بالکل ہی نہ ہوگا یا یہ نکاح کم از کم ناجائز وگناہ ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.