Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ڈیٹول ملے ہوئے پانی سے وضو و غسل ہوجائے گا؟

Question

ڈیٹول ملے ہوئے پانی سے وضو و غسل ہو جائے گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ پانی میں ڈیٹول کے چند قطرے ڈال کر اس پانی سے نہایا جاتا ہے ، ڈیٹول شامل کرنے کی وجہ سے پانی میں سے اس کی بو آنے لگتی ہے تو کیا ایسے پانی سے فرض غسل ادا ہو جائے گا ؟ جبکہ ہدایہ وغیرہ کتب فقہیہ میں لکھا ہے کہ اگر پانی کا کوئی وصف رنگ، بو یا مزہ تبدیل ہو جائے تو اب وہ پانی وضو و غسل کے قابل نہیں رہتا ۔ اس پر مفتی بہ قول کیا ہے ، ارشاد فرما دیں ؟ جواب

Answer (beginning)

پانی میں ڈیٹول پانی کے مقابل بہت تھوڑی مقدار میں ملایا جاتا ہے جس سے پانی کی اپنی اصلی رقت میں تبدیلی نہیں ہوتی ، یونہی اس سے پانی کا نام بھی زائل نہیں ہو تا بلکہ اسے پانی ہی کہتے ہیں ، ہاں ! ڈیٹول کی مہک اس میں سے آنے لگتی ہے ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ پانی میں کوئی پاک چیز ملے تو اگر وہ شے پانی سے مقدار میں کم ہو اور اس کی وجہ سے پانی کی رقت یا نام میں تبدیلی واقع نہ ہو تو وہ مائے مطلق ہی رہتا ہے جس سے وضو و غسل دونوں ادا ہو سکتے ہیں ۔ لہذا عام طور پر جتنی مقدار میں ڈیٹول پانی میں ڈالا جاتا ہے اس ڈیٹول ملے پانی سے فرض غسل ادا ہو جاتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.