Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کا سلام پھیرتے ہوئے چہرہ پھیرنے کی شرعی حیثیت ؟

Question

نماز کا سلام پھیرتے ہوئے چہرہ پھیرنے کی شرعی حیثیت ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی کا سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنے اور چہرہ پھیرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ امام صاحب کو سلام پھیر کر کس طرف رخ کر کے بیٹھنا چاہیے ؟ جواب

Answer (beginning)

نماز کے اختتام پر دو مرتبہ لفظ " السلام " کہنا واجب ہے اور اس کے ساتھ " علیکم ورحمۃ اللہ " کہنا اور دائیں وبائیں جانب چہرہ پھیر نا سنت ہے اور سلام پھیرنے کے بعد سنت یہ ہے کہ امام قبلہ سے دائیں ، بائیں منہ کر کے بیٹھے یا مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھے ، جبکہ پیچھے محاذات میں (یعنی امام کے بالکل سامنے) کوئی نماز میں مشغول نہ ہو، البتہ ان میں سے افضل طریقہ دائیں جانب رخ کر کے بیٹھنا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.