Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احتلام ہو، لیکن منی کے صرف دو تین قطرے نکلیں تو غسل لازم ہوگا؟

Question

احتلام ہو، لیکن منی کے صرف دو تین قطرے نکلیں تو غسل لازم ہو گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ اگر کسی کو احتلام ہو جائے لیکن جب وہ سو کر اٹھا تو عام طور پر جس طرح منی خارج ہوتی ہے اس طرح نہیں تھا بلکہ اس کے کپڑوں پر منی کے صرف دو تین قطرے تھے ، تو کیا ایسی صورت میں بھی غسل کرنا ضروری ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

جی ہاں ! بیان کردہ صورت میں غسل فرض ہوگا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جہاں منی کے خارج ہونے سے غسل فرض ہوتا ہے وہاں اس میں قلیل و کثیر کا کوئی فرق نہیں بلکہ کثیر کی طرح قلیل منی کا خروج بھی غسل کے وجوب کا سبب ہے ۔ اس پر درج ذیل عبارات فقہاء دلالت کرتی ہیں : تحیۃ الفقہاء میں ہے : " فأما إذا انفصل عن شهوة وخرج لا عن شهوة فعلى قول أبي حنيفة ومحمد يجب الغسل وعلى قول أبي یوسف لا يجب ۔۔۔۔۔ وفائدة الخلاف تظهر في ثلاث مسائل۔۔۔ والثانية إذا اغتسل الرجل من الجنابة ثم خرج منه شيء من المني“ ترجمہ : شہوت سے منی جدا ہو اور شہوت سے خارج نہ ہو تو طرفین کے قول پر غسل واجب ہے اور امام ابو یوسف کے قول پر واجب نہیں ۔ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.