Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رضاعی بیٹے کا وراثت میں حصہ بنتا ہے؟

Question

رضاعی بیٹے کا وراثت میں حصہ بنتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چند دن پہلے میرے والد صاحب انتقال فرما گئے تھے ۔ اب ہم ان کی جائیداد تقسیم کرنے لگے ہیں اور ہمارا ایک رضاعی بھائی بھی ہے ، توکیا شرعی طور پر وراثت میں اسے بھی حصہ دیا جائے گا؟ جبکہ اس سے کوئی نسبی تعلق نہیں ہے ، محض دودھ کا رشتہ ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ کے رضاعی بھائی کا آپ کے والد کی جائیداد میں بطور وراثت کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ قواعد وراثت کے مطابق رضاعت، اسباب وراثت میں سے نہیں ہے ، نیز رضاعی اولاد کا رضاعی والدین سے نسب کے اعتبار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، بلکہ ان سے صرف دو ددھ کا رشتہ ہوتا ہے اور رضاعت صرف حرمت کے معاملے میں مؤثر ہوتی ہے ، اس کے علاوہ بقیہ احکام میں رضاعی اولاد اور رضاعی والدین باہم اجنبی کی طرح ہوتے ہیں، اسی وجہ سے رضاعی والدین کی گواہی ، رضاعی اولاد کے حق میں مقبول ہے ، یونہی ان کا نفقہ بھی لازم نہیں ہوتا ، لہذا بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں رضاعی اولا دوراثت سے حصہ بھی نہیں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.