Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آلہ لگا ہونے کی صورت میں کان کا مسح نہ کرنا کیسا؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
9041-FSD
Issued
13 صفر المظفر 1445 / 19 اگست 2024

Question

آلہ لگا ہونے کی صورت میں کان کا مسح نہ کرنا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے وضو کے لیے "HearingAid" کو بار بار نکالنا پڑتا ہے ۔ اگر " HearingAid" کان میں ہوں، تو مشکل ہوتی ہے ۔ دو بار یہ آلہ پانی میں بھی گر چکا ہے ۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں وضو کے دوران کان پر یہ نہ لگاؤں ۔ کیا ایسا کرنے سے میرا وضو ہو جائے گا؟ نوٹ : HearingAid" ایک چھوٹا سا آلہ ہے ، جو ثقل سماعت کے مریض آواز کو سننے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ جواب

Answer (beginning)

قوانین شریعت کے مطابق کانوں کا مسح کرتے وقت بھیگی چھنگیا یعنی دونوں ہاتھوں کی سب سے چھوٹی انگلی تر کر کے کانوں کے سوراخ میں داخل کرنا مستحب ہے اس لئے اس طریقے سے ہی مسح کرنا بہتر ہے لہذا اگر کسی نے اس آلے کو اتارے بغیر کانوں کا مسح نہ کیا اور بقیہ سر کا مسح کر لیا تو بغیر کسی کراہت کے اس کا وضو ہو جائے گا کہ ترک مستحب سے وضو میں کسی قسم کی کراہت لازم نہیں آتی ۔ وضو کے مستحبات کو بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤالدین سمرقندی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات : 540ھ / 1145ء) لکھتے ہیں : ” إدخال الإصبع المبلولة في صماخ الأذنين» یعنی کانوں کا مسح کرتے ہوئے تر انگلی کا نوں کے سوراخ میں داخل کرنا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.