Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازِ جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنے کا حکم

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
9040-FSD

Question

نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز جنازہ میں اگر امام صاحب بھول کر پانچویں تکبیر کہہ دیں، تو کیا نماز جنازہ ادا ہو جائے گی یا دوبارہ لوٹانا ہوگی ؟ جواب سائل : محمد محمود (جھنگ)

Answer (beginning)

نماز جنازہ میں چار تکبیر میں فرض ہیں، لہذا چار ہی کہنی چاہیے ، البتہ اگر کسی نے پانچ تکبیریں کہہ دیں، تو نماز جنازہ ادا ہو جائے گی، پھر اگر پانچویں تکبیر کہنے والا امام ہو، تو اس صورت میں مقتدی پانچویں تکبیر میں امام کی پیروی نہ کریں، بلکہ امام کے سلام پھیر نے کا انتظار کریں ، جب امام سلام پھیرے ، تو مقتدی بھی امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دیں ۔ علامہ بُرہان الدین مرغینانی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ (سال وفات : 593ھ / 1196ء) لکھتے ہیں : ” ثم يكبر الرابعة و يسلم ، لأنه صلى الله عليه وسلم كبر أربعا في آخر صلاة صلاها، فنسخت ماقبله ولوكبر الإمام خمسالم يتابعه المؤتم، خلا فالز فر رحمه الله لأنه منسوخ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.