Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس کے تلفظ درست نہ ہوں اس کا اذان دینا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9034-FSD
- Issued
- 04 صفر المظفر 1446 هـ / 10 اگست 2024.
Question
جس کے تلفظ درست نہ ہوں اس کا اذان دینا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے میں ایک شخص اذان دیتا ہے ، لیکن اس سے صحیح ادا نہیں ہوتے ، جس کی وجہ سے وہ حروف بدل دیتا ہے ، جیسے ”اشھد ان لا کو اشهد و لا“ پڑھتا ہے ، اسی طرح ” اللہ اکبر کو ” الله وکبر یعنی الف کی جگہ " و " پڑھتا ہے ، مزید یہ کہ قریب الصوت الفاظ میں فرق بھی نہیں کرتا مثلاح ھ ، ص س ، ہمزہ اور ع میں امتیاز نہیں کر پاستا، بلکہ ایک دوسرے سے بدل دیتا ہے ، ایسے شخص کا اذان دینا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس شخص کا اذان دینا، ناجائز و حرام ہے، کیونکہ سوال میں جن غلطیوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے ، ان کو فقہ کی اصطلاح میں "لحن جلی " کہتے ہیں، لحن جلی ( بڑی اور ظاہر غلطی) اور کلمات اذان میں تبدیلی کے ساتھ اذان دینا، ناجائز و حرام ہے ، لہذا اس شخص کو اذان دینے کی ہر گز اجازت نہیں، لیکن اگر پھر بھی اذان دے ، تو وہ اذان نہ ہو گی ، اس کو درست تلفظ کے ساتھ لوٹانا ضروری ہوگا اور شخص مذکور نے اس انداز میں جتنی اذانیں دیں ، ان سے تو بہ کرنا بھی لازم ہے کہ غلط اذان کہنے کی وجہ سے وہ گناہ کا مرتکب ہوا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.