Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گھوڑے کے گوشت کا حکم؟ گھوڑے کا گوشت حلال ہے؟

Question

گھوڑے کے گوشت کا حکم ؟ گھوڑے کا گوشت حلال ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ سوشل میڈیا پر بعض حنفی علماء سے یہ مسئلہ سنا کہ گھوڑے کا گوشت کھانا ، جائز و حلال ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے گھوڑے کا گوشت کھایا ہے ، لہذا گھوڑا حلال ہے نیز گھوڑے کے گوشت کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اس وجہ سے مکروہ تحریمی قرار دیا کہ یہ آلہ جہاد ہے اور اسے کھانے سے آلہ جہاد میں کسی آئے گی ، جبکہ آج کے دور میں جدید اسلحے سے جنگیں ہوتی ہیں ، اب گھوڑا آلہ جہاد نہیں رہا، تو موجودہ دور میں گھوڑے کا گوشت کھانے میں آلہ جہاد کی تقلیل والی علت نہیں پائی جاتی ، لہذا فی زمانہ اسے کھانے کی اجازت ہوگی ۔ اس حوالے سے تفصیل کے ساتھ حکم شرعی بیان کر دیجئے ؟ جواب

Answer (beginning)

گھوڑے کے گوشت کے بارے فقہاء کا اختلاف ہے ، راجح اور محتاط قول یہ ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا ، ناجائز و مکروہ تحریمی (قریب بہ حرام) ہے ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی موقف ہے اور اس پر قرآن وحدیث کے دلائل موجود ہیں ۔ آیت مبارکہ سے استدلال : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ﴿وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴾ ترجمہ کنز العرفان : اور (اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے ( پیدا کئے ) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور یہ تمہارے لئے زینت ہے اور (ابھی مزید) ایسی چیزیں پیدا کرے گا جو تم جانتے نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.